ہفتہ، 29 مئی، 2021

بڑھاپے کی مشکلات کیسے حل کریں؟

انسان بسا اوقا جوانی اور وسائل کے بل بوتے پر فرعون بن جاتاہے اور وہ یہ بھول جاتاہے کہ ایک دن جوانی نے زائل ہوجانا ہے اور یہ رعنائیاں اور سہولیات کافور ہوجائیں گی۔ ایسے میں ایک تو انسان کو تواضع اختیار کرنی چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ جوانی کی دہلیز پار کرنے والوں کا خیال رکھے۔

بڑھاپا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر انسان جو بقید حیات ہو، گزرتا ہے۔ یہ پوچھ کر نہیں آتا اور نہ ہی دھکے دینے سے اس سے جان چھوٹتی ہے۔ اس کا اثر بھی فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنا اثر دکھاتاہے۔ بڑھاپا مسلسل عمل کا نام نہیں بلکہ دھیرے دھیرے اور کبھی وقفے سے نمودار ہوتاہے۔ اس کے مضر اثرات بسااوقات جلدی ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی سالوں تک انسان بڑھاپے کے زیر اثر نہیں آتا بلکہ زندگی کا ایک لمباعرصہ اچھی صحت کے ساتھ گزارتاہے اگرچہ شمار میں اس کی عمر کافی زیادہ ہو۔

بڑھاپے کے ظہور کا عمل مردوں اور عورتوں میں بھی یکساں نہیں ہوتا۔ بسااوقات مردوں میں بڑھاپے کی رفتار تیز ہوتی ہے اور کبھی عورتیں اس کا شکار جلدی ہوتی ہیں۔ نیز انسان کے اندرونی اعضاء بھی اس سے یکساں متاثر نہیں ہوتے۔ جگر دیگر اعضاء کے مقابلے میں جلد بڑھاپے کی زد میں آتاہے اور نسبتا جلدی اپنا اثر دکھانا کم کردیتاہے۔ بڑھاپے کے ساتھ انسان کے تمام اعضاء اپنا اثر دکھانا یا کم کردیتے ہیں یا بالکل چھوڑدیتے ہیں۔ مثلا بینائی روزبروز متاثر ہوتی ہے، قوت سماعت میں خلل آنا شروع ہوجاتا ہے، اس طرح دیگر اعضاء کا حال ہے۔

بوڑھے افراد ہماری توجہ کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں، عمررسیدگی چڑچڑے پن کا بھی باعث بنتی ہے، لہذا افراد خانہ ان کی باتوں سے پریشان نہ ہوا کریں، انہیں توجہ دیں اور ان کو احساس کمتری کا شکار ہونے سے بچائیں۔ ان کی تند وتیز باتوں کا جواب تیزطریقے سے دینے سے بجائے تحمل سے پیش آنا ضروری ہے۔

زندگی کے اس تیز سفر میں اولاد کو چاہیے اپنے بوڑھے والدین کے لیے وقت نکالیں، ان سے گفتگوکریں تاکہ وہ وحشت اور تنہائی کا شکار نہ ہوں۔ اولاد اگر اپنے پائوں پر کھڑی ہے تو والدین کو اطمینان ہوتاہے، لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو تو والدین بیک وقت بڑھاپے اور فکر معاش دونوں سے لڑرہے ہوتے ہیں۔

اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بچے دوسرے شہروں میں آباد ہوجاتے جہاں زندگی کی سہولیات نسبتا اچھی ہوتی ہیں یا وہ اس جگہ ملازمت کرتے ہیں جہاں مشاہرہ اچھا ہوتاہے اور اپنے بوڑھے والدین کو دیہات میں چھوڑ دیتے ہیں۔ مجبورا ریٹائرمنت کے بعد بھی انہیں فکر معاش لاحق ہوتی ہے اور اپنی گزربسر کے لیے وہ کوئی کارروزگار ڈھونڈنے کے متمنی ہوتے ہیں۔ ایسے میں اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین کو تنہا نہ چھوڑیں، ان کا ہرلحاظ سے خیال رکھیں تاکہ وہ پرسکون زندگی گزار سکیں۔

بڑھاپے کے زیر اثر آنے سے پہلے انسان کو خود بھی اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ مفید طبی غذائیں اور زندگی میں توازن رکھنا بڑھاپے کے اثرات بد کو زائل کرنے کے لیے معاون ثابت ہوسکتاہے۔

جمعہ، 28 مئی، 2021

توانائی بڑھانے کا طریقہ

ہم میں اکثر صبح سویرے جب اٹھتے ہیں تو جسمانی تھکن کی شکایت ہوتی ہے۔ خود کو کمزور وناتواں سمجھنے کا احساس ہوتاہے اور جب تک چائے نہ پی جائے یا کچھ اور غذائیت نہ لی جائے، جسم میں نقاہت محسوس ہوتی ہے۔ بقیہ دن بھی مختلف نہیں ہوتا، کمزوری کا احساس برقرار رہتا ہے اور کبھی بلاوجہ انسان خود کو توانا محسوس کرتاہے۔ اکثر افراد صبح سے دوپہر تک عدم توانائی کے ساتھ کام میں جتے رہتے ہیں لیکن دوپہر کے بعد یہ تھکان اور سستی غالب آجاتی ہے۔ دوپہر کو قیلولہ ضروری ہے لیکن اگر قیلولہ کا وقت نہ ملے یا ٹھیک سے نیند نہ آئے، تو نقاہت بہت بڑھ جاتی ہے۔

توانائی کسے کہتے ہیں؟ توانائی کا مطلب ہے بدن میں قوت ہو، ذہن کام کے لیے تیار ہو، اور کام کے دوران اکتاہٹ محسوس نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ توانائی ہی زندگی ہے۔ اس زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مثبت اقدامات کی طرف توجہ دی جائے۔ اگر انسانی جسم سے تونائی ختم کردی جائے تو سوائے گوشت پوست کے بدن میں کچھ باقی نہیں بچتا۔ ریسرچ سے ثابت ہے کہ توانائی نہ تو ہمیشہ برقرار رہتی ہے اور نہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتاہے۔ بلکہ توانائی کا عمل کمی بیشی سے ہوتا رہتاہے۔ کبھی توانائی میں کمی ہوتی ہے اور کبھی غیر ضروری طور پر زیادتی بھی محسوس ہوتی ہے۔ توانائی پر اثر انداز ہونے والی چیزیں متعدد ہیں جن میں ورزش، نیند، جوش وخروش، اور غذائیت سرفہرست ہیں۔

نیند وقت پر لینا اور پوری لینا بے حد ضروری ہے۔ نیند میں کمی کئی خطرات کو جنم لیتی ہے جس کا منفی اثر انسان کی توانائی کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ نیند کی کمی خواہ کم ہو یا زیادہ، بہرحال منفی اثر رکھتی ہے۔ صرف ایک گھنٹہ کی نیند کی کمی 20 فیصد کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ لوگ نیند کا راستہ روکنے کے لیے کئی تدابیر اختیار کرتے ہیں جن میں چائے اور کافی قابل ذکر ہیں، جنکا زیادہ استعمال بہرحال مضر ہے۔ نید کی کمی طاقت کو اگر کم کرتی ہے تو نیند کی زیادتی اور نیند پوری لینا طاقت میں اضافہ کا سبب بھی ہے۔ لوگ اتوار کی چھٹی کو غنیمت سمجھتے ہوئے دیر تک سوتے رہتے ہیں، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ انسان کی صحت کے لیے ضروری ہے روزانہ جلدی سوئے اور جلدی بیدار ہوکرنماز پڑھے اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہوجائے۔

نیند جسم کے کئی نظاموں کے لیے مفید ہے۔ وقت پر لی گئی نیند تنائو کو کم کرتی ہے۔ اور انسان اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتاہے۔ توانائی کا ایک اہم ذریعہ چہل قدمی بھی ہے۔ دس منٹ تک انسان چلے یا دوڑے تو اس سے جسم میں آکسیجن پہنچتی ہے۔ لفٹ کا استعمال معذوروں کے لیے چھوڑ دینا چاہیے، ایک نارمل انسان اگر سیڑھیوں پر چڑھے تو اس سے بھی توانائی حاصل کرنے میں مدد ملتی  ہے۔

جوش وخروش اور توانائی کا بھی گہرا ربط ہے۔ انسان کو کوئی چیلنج درپیش ہو تو آٹومیٹک توانائی پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ انسان ٹھان لیتا ہے کہ اس مشکل پر بہرحال قابو پانا ہے۔ اس لیے جوش وخروش کو کسی صورت کم نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے مزاج اور رویے کا تعلق دماغ میں پائے جانےوالے کیمائی اجزاء سے بھی ہوتاہے۔ چیلنجز کو قبول کرنا اور مشکلات پر قابو پانے کی ٹھان لینا انسان کو اندرسے بیدار اور چاق وچوبند رکھتا ہے۔

بدھ، 26 مئی، 2021

خوشی اور صحت کا آپسی تعلق

یہ محاورہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ہنسی علاج غم ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جاتی ہے کہ ہنستے مسکراتے رہنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ دنیا کے غم اور زندگ کی تکالیف صرف مسکرانے سے تو ختم نہیں ہوتیں، ہاں اتنا ضرورہے کہ مشکلات کی شدت میں کمی کا احساس ضرور ہوتاہے۔ کچھ حوصلہ ہوجاتاہے کہ انسان پریشانیوں کا مقابلہ کرسکے۔ نفسیاتی طور پر مسکرانے سے اور بہ تکلف خوش رہنے سے تازگی کا احساس ہوتاہے،تخلیقی سوچ پیدا ہوتی ہے جس سے پریشانیوں کا حل ڈھونڈا جاسکتاہے۔

کئی ترقی یافتہ ممالک خوش رہنے کے لیے پروگرام ترتیب دیتے ہیں، محافل منعقد کی جاتی ہیں جن میں ہم مزاج لوگوں کو مدعو کیا جاتاہے۔ ایک دوسرے کو لطیفے سناتے ہیں، یوں کچھ تفریح کا سامان تھوڑی دیر کے لیے میسر آجاتاہے۔

انسانی مزاج عجیب قسم کا ہے، ہنسی اور مذاق کا اس پر گہرا اثر پڑتاہے۔ یہ اثر جانچنے کے لیے امریکہ میں ایک ریسرچ کی گئی۔ شرکاء کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک حصے کو ایک خاص سٹک دی گئی اور اس کو ہونٹوں میں دبانے کو کہا گیا۔ دوسرے گروپ کو بھی ایک مخصوص سٹک دی گئی اور انہیں کہا گیا کہ اس کو اپنے دانتوں میں دبا کے رکھیں۔ نتیجہ حیران کن سامنے آیا۔ ہونٹوں میں دبا کے رکھنے والوں کے چہرے سپاٹ ہوگئے اور یوں محسوس ہوا جیسا کہ وہ شدید ذہنی اذیت سے گزرے ہیں۔ اس کے برعکس جنہوں نے سٹک دانتوں میں دبا کررکھی تھی، ان کے چہرے غیر معمولی طور تروتازہ نظر آئے اور محسوس ہوا جیسے وہ خوشی کے احساس سے گزر کر ائے ہیں، کیونکہ ان کی ہیئت ایسی تھی جیسے ہنسی کے وقت کسی کی باچھیں کھل جائیں۔

نہ صرف یہ کہ تجربے کے بعد، دونوں گروپوں میں فرق محسوس کیا گیا۔ بلکہ اس تجربے کے دوران بھی واضح طور پر شرکاء کے خیالات مختلف سامنے آئے۔ سٹک کو ہونٹوں میں دبا کے رکھنے والوں نے بتایا کہ یہ سرگرمی خاصی تھکادینے والی تھی، وہ اکتاہٹ کا شکار ہوئے اور اس تجربہ کو جلد سے جلد ختم کرنے کے متمنی ہوئے۔ جبکہ دانتوں میں دبا کے رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ نہایت لطیف تھا، انہیں کوئی اکتاہٹ اور تھکن محسوس نہ ہوئی، اور خوش اسلوبی سے یہ عمل انجام پایا۔

یہ تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خوش اسلوبی سے انجام دیے جانے والے کام بوریت سے بچاتے ہیں، تھکن کا احساس نہیں دلاتے اور کام ختم ہونے کے بعد بھی انسان چاق وچوبند رہتاہے۔ اس کے برعکس، زبردستی کروانے جانے والے کام انسان کو مضمحل کردیتے ہیں۔ دل نہیں لگتا اور انسان فوری طور پر ذہنی پریشانی کا شکار ہوجاتاہے۔

ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہنے سے انسان کئی بیماریوں کا شکار ہونے سے بھی بچ جاتاہے، جن میں امراض قلب سرفہرست ہیں۔ دل کی صحت کا تعلق حیرت انگیز طور پر ہنسی خوشی اور لوگوں سے میل جول میں مضمر ہے۔ اس کے علاوہ یہ چیز انسانی خود اعتمادی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ خوش وخرم رہنے والے بلاکے پراعتماد ہوتے ہیں باوجودیکہ ان میں تخلیقی صلاحیت غیر معمولی طور پر نہ بھی ہو۔ ایسے لوگ مشکل حالات پر قابوپانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خود پر  مسائل کو حاوی نہیں ہونے دیتے۔

منگل، 25 مئی، 2021

کام کے دبائو میں ذہن کو کیسے پرسکون رکھیں

خواہ آپ کسی پرائیویٹ ادارے میں کام کرتے ہوں، یا سرکاری پوسٹ پر ہوں، دفتری امور کی انجام دہی میں اکثر لوگ سٹریس یعنی ذہنی تنائو کی شکایت کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت کام کی رفتار تیزسے تیز تر ہورہی ہے، اس طرح انسان بھی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے سر توڑ کوشش کررہا ہے۔ سبقت لے جانے کی سعی مثبت اور قابل مدح ہے، لیکن اس کی قیمت ذہنی دبائو اور تنائو کی صورت ادا کرنا کسی طرح سود مند نہیں۔ ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا سب سے بڑا سبب کاموں کی زیادتی ہے۔ ایک ہی وقت میں مختلف کام نمٹانا دماغی صحت کے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سے انسان کی فوکس کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے جس کا نتیجہ کام کے ناقص اور بے فائدہ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ 62 بلین ڈالر کی سٹریس کی ادویہ خریدی جاتی ہیں اور قریبا 100 بلین ڈالر کے لگ بھگ اداروں کو ا س حوالے سے نقصان برداشت کرنا پڑتاہے۔ ویسے تو کام کی زیادتی کی وجہ سے ذہنی صحت کے متاثرین ہر شعبہ میں پائے جاتے ہیں لیکن حفاظتی اداروں اور بینکوں کے ملازمیں اس مرض کی لپیٹ میں زیادہ ہیں۔ ظاہر ہے ایسی صورتحال میں ملازم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں انسان ملازمت سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔ اگر ایسے لوگ کاروبار سے منسلک ہوں تو ان کا کاروبار بھی خطرے میں پڑسکتاہے۔ اگر ذہنی صحت میں خلل کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اس کے ازالہ کی کوشش کرنی چاہیے۔ ذہنی تنائو کا سبب صرف کام کی زیادتی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے کئی اور عوامل بھی ہیں، جیسے ملازمت چھوٹ جانے کا خوف، دیر تک آفس میں کام کرنے کی وجہ سے اکتاہٹ، کارکنوں کی کمی وغیرہ۔ اس طرح کبھی انسان اس مرض میں اس وجہ سے بھی مبتلا ہوسکتا ہے کہ کہیں باس یا کلائنٹ ناراض نہ ہوجائے۔ علاوہ ازیں کبھی ملازم ہرکام جلدی سے اس لیے بھی کرتاہے تاکہ دوسروں پر اچھا تاثر پڑ سکے، لیکن اس کے نتیجہ میں وہ خود کو ہلکان کرلیتا ہے پھر ذہنی عوارض میں مبتلا ہوجاتاہے۔

اس مرض کی علامات بھی متعدد ہیں۔ مثلا مسلسل پریشانی، چڑچڑاپن، الجھن، اور کام میں دلچسپی کا نہ ہونا۔ اس طرح اگر انسان لوگوں سے میل جول رکھنے سے کتراتا ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ ذہنی صحت کے حوالے کسی خاص پریشانی کا شکار ہے۔ میل جول نہ رکھنا فطری بھی ہوسکتاہے، لیکن اکثر اس کا سبب ذہنی تنائو ہوتاہے۔

چند اسان تدابیر اختیار کرکے اس بیماری سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ مثلا اپنے دن کا آغاز ورزش سے کیجئے۔ دن کا پہلا گھنٹہ اگے 23 گھنٹوں کے لیے آپ کا لائحہ عمل طے کرسکتاہے۔ صبح نمازسے فارغ ہونے کے بعد پیدل چلنا معمول بنایا جائے تو کافی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ چہل قدمی کے لیے خاص اہتمام کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں، بلکہ وقتا فوقتا روزانہ کے پیدل چلنے کی مقدار پوری کی جاسکتی ہے۔ کام پر جانے کے بعد جتنی بھی ضروریات ہوں انہیں نوٹ کرلیا جائے اور ترتیب سے ان کو انجام دیا جائے۔ کاموں میں خلط اور بے ترتیبی سے کام سمیٹنا ذہنی صحت کے حوالے سے نقصان دہ ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ کاموں میں توازن کو برقرار رکھا جائے۔ 

ورزش کیوں اہم ہے؟


دنیا کا کوئی ٹانک اور طاقت کی دوا ایسی نہیں ہے جوورزش کا نعم البدل بننے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ماہرین طب کے مطابق مارکیٹ میں طاقت اور توانائی کی جتنی ادویہ دستیاب ہیں، سب کے فوائد وقتی اور عارضی ہیں۔ صرف ورزش ایسا نسخہ ہے جو دیرپا ہے اور انسان کو کئی سالوں تک تنومند اور تندرست رکھ سکتاہے۔ اس آرٹیکل میں ہم ورزش کے وہ فوائد زیر بحث لاتے ہیں جن کی افادیت مسلم ہے اور جدید سائنس ان کے صحیح ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے۔

سیکھنے کے عمل میں بہتری
ورزش اور دماغ کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس لیے کہ مسلسل اور پائیدار ورزش سے ہم کسی بھی چیز کے سیکھنے کے عمل کو تیز تر کرسکتے ہیں۔ انسانی جسم میں کچھ جینز ہوتے ہیں جن سے دماغی خلیوں کا ربط ہوتاہے۔ ورزش سے ان خلیوں کو تقویت ملتی ہے۔ گوکہ اس کا مستقل فائدہ مستقل ورزش میں ہی مضمر ہے لیکن اس کے مثبت اثرات ایک دن کی ورزش سے ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ 2019 میں کی گئی ایک ریسرچ کے مطابق کہا گیا تھا کہ کئی گھنٹے کی ورزش ضروری نہیں صرف آدھا گھنٹہ روزانہ یہ عمل کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

دماغی لچک میں بہتری اور اضافہ
سائوتھ اسٹریلیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے اعصابی لچک میں اضافہ اور بہتری انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، اور ورزش سے مطلوبہ اعصابی لچک حاصل کی جاسکتی ہے۔ اعصابی لچک کا مطلب ہے اعصابی خلیات کی وائرنگ اور ترتیب وقتا فوقتابدلتی رہے۔ جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ اس میں انسان سیکھنے کے عمل کو بھی بہتر بناسکتا ہے، کیونکہ اعصابی لچک کا براہ راست تعلق دماغی خلیات سے ہوتاہے۔ پابندی سے ورزش ہو تو اعصابی لچک کا یہ عمل بھی پابندی سے ہوتا رہتاہے اور یوں سیکھنے کے عمل میں بہتری بڑھتی رہتی ہے۔

دماغی انحطاط اور کمزوری کاخاتمہ
عمر کے ساتھ ساتھ دماغی کمزوری اور انحطاط کا واقع ہونا فطری ہے اور ہر انسان کا اس سے واسطہ پڑتاہے۔ زیادہ نقصان اس صورت میں ہوتاہے جب دماغی خلل کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو۔ اس پر قابو پانا ممکن ہے اگر انسان ورزش کو اپنا معمول بنالے۔ باقاعدہ ورزش سے نہ صرف دماغی انحطاط سے محفوظ رہا جاسکتاہے بلکہ دیگر کئی امراض سے نجات پاسکتاہے جن کا سبب سستی، کاہلی، اور غیر متحرک ہونا ہے۔ علاوہ ازیں یادداشت کی کمزوری کا ایک  بڑا سبب بھی جسمانی طور پر معطل رہنا ہے۔ ورزش سےانسان اپنی یادداشت بھی بہتر بناسکتاہے۔ 2019 میں کئ گئی ایک تحقیق کے مطابق، باقاعدہ ورزش سے بھولنے کی بیماری کا خطرہ 32فیصد تک کم ہوسکتاہے۔ اس مرض کا جینیاتی امکان موجود ہو تب بھی ورزش سے اس کے خطرت کو حیرت انگیز حد تک کم کیا جاسکتاہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے  کہ ورزش کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی سے پرہیز ہو اور مناسب غذا کا اہتمام کیا جائے۔

ذہنی تنائو سے نجات
مستقل ذہنی تنائو ایک عارضہ ہے جس سے پوری دنیا اس وقت گزررہی ہے۔ بچے بوڑھے جوان سبھی اس اذیت سے دوچار ہیں۔ مناسب اور مستقل ورزش اس کاایک بہترین علاج ہے۔ دماغی نشونما اور ذہنی تنائو باہم مربوط ہوتے ہیں، ذہنی نشونما میں شیرخوارگی میں ماں کا دودھ اہم کردار ادا کرتاہے لیکن ورزش بھی اس سلسلے میں اتنی ہی افادیت رکھتی ہے۔ بچپن میں ہی بچون کو کھیل کود کا عادی بنایا جائے، ایسے کھیلوں کی ترغیب دی جائے جس میں انسانی جسم حرکت میں رہے۔ بڑے ہوکر ڈپریشن کے شکار ہونے کا خطرہ انتہائی کم ہوجائےگا، اور ذہنی تنائو سے نجات ممکن ہوجائے گی۔

نابیناپن کے خطرے کا مقابلہ
بڑھاپا انسان کو آہستہ آہستہ نابینا پن کی طرف لے جاتاہے۔ باقاعدہ ورزش اس خطرے کو تقریبا 45 فیصد تک کم کرسکتی ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں ورزش بینائی کو سلامت رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

ہفتہ، 22 مئی، 2021

خود پر کنٹرول کیجئے

 خود پر کنٹرول کیجئے

ذرا سی بات پر بھڑک جانا ایک عادت سی بنتی جارہی ہے، یہ ہم میں سے کئی لوگوں کا المیہ ہے۔ معاشرتی رویوں اور داخلی وخارجی مسائل میں گھرے لوگ اپنی ناکامی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی روش اپنائے رکھتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں قرآن مجید کی نصیحت دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے جو ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ اپنے آپ کو مشتعل ہونے سے روکے رکھو۔

جدید دور کے لوگ جو گوناگوں مسائل کا شکار ہیں، خاص طور پر یہ نصیحت یاد رکھیں۔ ہم میں سے اکثر بیک وقت کئی مسائل سوچتے رہتے ہیں اور اسی وقت میں ان کے حل کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔ نیتجہ یہ ہوتاہے کہ ذہن میں گڑ بڑ پیدا ہوجاتی ہے اور کسی نتیجہ تک پہنچے بغیر ہمارا ذہن منتشر ہوجاتاہے اور تھکان پر منتج ہوتاہے۔ جدید زندگی بہت تیز رفتار ہے، اسی تیزی کو برقرار رکھتے ہوئے ذہنی سکون کا حاصل ہونا ناممکن ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنی زندگی کی رفتار کو حد اعتدال میں رکھیں۔ خدائی منشا کے مطابق زندگی بسر کرنا اصل حل ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے جلدبازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ تیزی دکھانا بجائے فائدہ کے نقصان پہنچاتاہے۔ بغیر کسی خلل کے خدائی نظام وقار اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حکم دیتاہے۔ احمقانہ تیزرفتاری سے چلنا انسان کو تھکا دیتاہے۔

    پرسکون رہنا ایک مشق طلب عمل ہے۔ یہ حالت انسان کو راتوں رات حاصل نہیں ہوسکتی، عملی طور پر مسلسل مشق کرنے سے پرسکون رہنا انسان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے۔ تحمل مزاجی اپنانے سے انسان کے سارے کام اپنے وقت پر بہترطریقے سے ختم ہوجاتے ہیں۔ انسان اگر اپنا معمول بنالے کہ دن میں کم ازکم پندرہ منٹ اپناکام چھوڑ کر کسی خاموش جگہ بیٹھ جائے تو کافی فائدہ محسوس ہوتاہے۔ اس سے نہ صرف ذہن کو سکون ملتاہے بلکہ انسان تازہ دم ہوجاتاہے۔ بہت سے جسمانی امراض کا علاج پرسکون رہنے میں مضمر ہے۔ غصہ پر قابو پانا اور اپنے آپ کو کڑھنے سے بچانا بہت سی بیماریوں سے نہ صرف بچاتا ہے بلکہ کافی امراض کا علاج بھی ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ چلتے وقت زمین پر زور سے پائوں نہ ماریں،اپنے ہاتھوں کو مسلنا چھوڑ دیں، یہ ایک حماقت آمیز عمل ہے۔ علاوہ ازیں دھیمے لہجے میں بات کریں، آواز اتنی بلند ہو کہ دوسرے کو آسانی سے آپ کی بات سمجھ میں آجائے۔ شور میں بات کرنے سے نہ صرف دوسروں کو کوفت ہوتی ہے بلکہ خود متکلم کے دماغ پر برا اثر پڑتاہے اور وہ کافی دیر پریشانی کی حالت میں رہتاہے۔

جذباتیت مسائل کا حل نہیں ہے۔ مسائل کے حل کے لیے اطمینان اور پرسکون ہونا ضروری ہے۔ جذباتی ہونے سے انسان کی جسمانی حرکت بھی تیز ہوجاتی ہے جو کسی بھی طرح مفید اور کارگر عمل نہیں ہے۔ ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی عادت ڈالنے سے شخصیت میں نکھار آتاہے اور نتائج بہتر برآمد ہوتے ہیں۔ جسمانی دوران خون کو نارمل رکھنا بہت ضروری ہے۔ ذہنی صلاحیتیں اس وقت بہتر کام کرتی ہیں جب آپ کا جسم اور جذبات آپ کے کنٹرول میں ہوں۔ طبیعت میں تلخی ختم کرنے کے اقدامات ضروری ہیں، یہ حالت حاصل ہوجائے تو انسان جھنجھلاہت کا شکار ہونے اور آپے سے باہر ہونے سے نجات پاسکتاہے۔

غصہ کنٹرول کرنے کے دنیاوی فوائد کے ساتھ ساتھ کئی دینی فوائد بھی ہیں۔ احادیث میں غصہ قابو کرنے کی تاکید آئی ہے، اس سے تکبر سے نجات ملتی ہے۔ تواضع پیدا ہوتی ہے، اور تواضع کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ معاشرہ میں انسان کو قدرتی عزت ملتی ہے۔

پیر، 10 مئی، 2021

ڈپریشن اور ذہنی تنائو کی صورتحال اور وجوہات

ملک عزیز پاکستان گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ معاشی اور سماجی مسائل کے ساتھ جسمانی عوارض میں مبتلا افرادکی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن ان عوارض میں شامل ہے جن کے بڑھنے کی رفتار حیران کن حد تک تیز ہے۔ ویسے تو اس کا شکار افراد ہر عمر اور ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن زیادہ تر افراد نوجوان ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں نوٹ کی گئی ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی شرح بائیس سے ساٹھ فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ کم آبادی کے شہروں اور دیہاتوں میں یہ صورتحال کنٹرول میں ہے لیکن جو شہر زیادہ آبادی والے ہیں جیسے لاہور کراچی وغیرہ ان میں صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ فی الحال پاکستان ذہنی مریضوں کی درجہ بندی میں اتنا آگے نہیں ہے، لیکن جس طرح مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس تناسب سے 2050 تک عالمی درجہ بندی میں پاکستان چھٹے نمبر پر آسکتاہے۔

ہمارے پاکستان کے بیشتر شہر جوائنٹ فیملی سسٹم پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد بیٹا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا پسند کرتاہے۔ کوئی بھی مسئلہ یا بیماری ہوجائے تو گھر کے سارے افراد مریض کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور مل کر اس کی بیماری کا علاج کرنے کی تگ ودو کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ گھر کا کوئی فرد اگر ذہنی ڈپریشن کا شکار ہے تو بجائے معالج کے پاس جانے کے اسے ایک پاگل پن قرار دیا جاتاہے اور مریض کو اپنی جنگ خود لڑنا پڑتی ہے۔ کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہوتا اور اندر ہی اندر گھر کا وہ پیارا شکست وریخت کا شکار ہوتا رہتاہے، باقی سب لوگ اپنی دنیا میں مست اور بے پرواہ رہتے ہیں۔ 

اس مضمون میں ہم  ڈپریشن کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا اور اس سے نجات کیسے ممکن ہے ۔ پہلے تو اس کو بیماری نہیں سمجھا جاتاہے، اگر کہیں اس کی شد بدھ ہے بھی، تو اس سے مکمل آگاہی حاصل نہیں ہے اور اس کا شعور حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ ہم اس کو معلوم کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ اس کی ایک بڑی وجہ فرسودہ روایات ورسوم ہیں جو ہمارے ہاں رشتوں اور اولاد سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ایسے مسائل گھر میں ہی حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور گھر سے باہر ان مسائل کا سامنے آنا عزت کا مسئلہ گردانا جاتاہے۔ ایک عام سے وجہ یہ بھی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے"۔

سب سے پہلے ڈپریشن کی حقیقت جانتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں مبتلی بہ اپنے آپ کو ناکام، تنہا اور اداس خیال کرتاہے۔ اتنا کچھ تو مریض کے ساتھ ہوتا ہے لیکن معاشرہ اس کو منفی رخ دے کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتاہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ مریض کو اس گھروالے سپورٹ کریں دوست احباب اس کی ڈھارس بندھائیں اور یہ باور کرائیں کہ تم ناکام نہیں ہو۔ بروقت علاج کی ازحد ضرورت ہوتی ہے ، ورنہ مریض کی ذہنی کیفیت دگرگوں صورتحال کا شکار ہوجاتی ہے جس سے نہ صرف اس کی سوشل لائف متاثر ہوتی ہے بلکہ پروفیشنلی طور پر وہ ایک بوجھ سا بن جاتاہے۔ یہ چیز اس کے کیرئیر اور زندگی دونوں کے لیے مہلک ہے۔

انہی منفی خیالات میں کھوکر مریض اندر سے کھوکھلا ہوجاتاہے۔ مسلسل خوف اور اندیشوں میں گھرا مریض جمود کا شکار ہوجاتاہے اور یہ جمود آہستہ آہستہ اس کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے۔ اس کے سارے خواب، محبتیں اور رشتے کمزور پڑجاتے ہیں۔ 

ڈپریشن کا تعلق عمر کے کسی خاص حصے سے ہرگزنہیں ہے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ اٹھارہ سے تیس سال کے نوجوان اس کا جلد شکار ہوجاتے ہیں۔ اپنی من پسند جاب نہ ملنا، دل میں تصورکردہ کامیابی کا حاصل نہ ہونا اور ضرورت سے زیادہ خواہشات کو دل میں پال کررکھنا اس کے نمایاں اسباب میں سے ہیں نئی نسل بلاشبہ ایک ڈیپریسڈ جنریشن کہلائی جاسکتی ہے۔ ذیل میں اس کے کچھ عوامل واسباب پر نظر ڈالتے ہیں۔

انٹرفیملی میرج اور جینیاتی مسائل بھی ڈپریشن کا باعث ثابت ہورہے ہیں۔ اگرچہ ہم آج اکیسویں صدی کے لوگ ہیں لیکن آج بھی ہمارے پڑھے لکھے خاندان ذات پات میں گھرے ہوئے ہیں اور خاندان کے باہر شادی کرنے کو شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔ اکثر شادیاں زبردستی ہوتی ہیں کیونکہ خاندانی روایات کو برقراررکھنا اور خاندان کے  باہر شادی نہ کرنا ایک ایسی روایت ہے جسے خاندان کے  بزرگ کسی صورت توڑنا نہیں چاہتے۔ ایسے میں اکثر میاں بیوی غیر ہم آہنگی کا شکار ہوجاتے ہیں، اور ان کے بچے شروع ہی سے تنائومیں گھر جاتے ہیں۔

میاں بیوی کی ناچاقی ہو تو بچوں کا نفسیاتی مریض بن جانا ایک فطری امر ہے، جس کی تمام تر ذمہ والدین پر ہوتی ہے جو آپسی اختلاف حل کرنے کے بجائے ان میں الجھتے چلے جاتے ہیں۔ بچے یہ مسائل دیکھ کر رنجیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعد میں چڑچڑاپن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کی تعلیم پوری ہوتی ہے، اور پھر اس طرح دوران ملازمت بھی وہ ذہنی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔

معاشی مسائل ڈپریشن کے مرض کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں نوجوان خبط کا شکار ہیں۔ شہروں میں آبادی بڑھ رہی ہے اور پرتعیش لائف سٹائل کی ہوس نوجوانوں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ اپنا خودساختہ سٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے ہرحلال اور حرام ، جائز وناجاجز طریقہ اپنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ۔ نہ صرف یہ کہ ہمارا سماجی نظام زوال پذیر ہے، بلکہ خونی رشتے بھی خود غرضی اور مفاد پرستی کے بھینٹ چڑھتے جارہے ہیں۔ 

کچھ لوگ حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، چھوٹی باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں، ان کا ڈپریشن میں مبتلا ہونا قرین قیاس ہے۔ بے روزگاری اور دفاتر میں سینئرز کی ڈانٹ ڈپت نوجوانوں میں احساس کمتری پیدا کررہی ہے جس کا نتیجہ ڈپریشن اور ذہنی امراض کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ ایک اندازے کے مطابق سو میں دس افراد ذہنی امراض کے معالجین کے پاس زیر علاج ہیں۔ سائنسی ترقی اپنے عروج پر ہے، گزشتہ دس پندرہ سالوں میں ٹیکلنالوجی کے میدان میں وہ پیش رفت ہوئی جو پچھلے دوسوسالوں میں نہیں ہوئی۔ ایسے میں نظام زندگی ظاہری لحاظ سے بہت بہتر ہوا ہے لیکن اس کے نقصانات بھی اظہر من الشمس ہیں۔ سماجی اور معاشرتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے نفسیاتی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

آج کی نوجوان نسل اور اس کے والدین میں دوریاں بڑھنے کی ایک وجہ ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔ بچے ایک کلک پر یا موبائل کی ایپ پر ہر چیز کا حصول چاہتے ہیں، اپنے مقصد کو پانے کے لیے انتظار کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ جبکہ والدین اپنے پرانی روایات چھوڑنے پر تیار نہیں۔ نہ توالدین خود کو بدلنے پر اور اولاد کے موافق اپنا مزاج ڈھالنے پر راضی ہیں، اور نہ اولاد والدین کے رجحانات واحساسات کو سممجھنے کی زحمت گواراہ کرتی ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہر گھر سے ایک باغی ذہن کا حامل بچہ پیدا ہورہا ہے۔    

Earn money online through your mobile