منگل، 29 جون، 2021

حقوق العباد اور حسن معاشرت کی اہمیت

 حقوق العباد اور حسن معاشرت کی اہمیت

اسلام کی عمارت کئی اصولو ں پر استوار ہے جس میں سے ایک اہم ستون معاشرت ہے۔ اسلام میں اس پر تاکید کی گئی ہے اور اس کی وجہ سے اسلام میں حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے اور معاشرت کا تعلق بھی حقوق العباد سے ہے۔ معاشرت کی اگر جامع مانع تعریف کی جائے تو کچھ اس طرح بنتی ہے کہ اجتماعی زندگی میں رشتہ داروں سے حس سلوک ہو اپنے ساتھ کے لوگوں کے مزاج اور عادت کے مطابق برتائو کیا جائے، اور ہر ایک سے نباہ کرنے کے طریقے معلوم کرکے ان پر عمل پیرا ہوا جائے۔

آج ہماری صورتحال اس کے برعکس ہے۔ معاشرت کی درج بالا تعریف کے مطابق شاذ ونادر ہی اس پر کوئی عمل پیرا ہوگا۔ اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑنا ہم سب کا اولین فریضہ سمجھا جاتاہے۔ دوسروں کے حقوق کی پامالی اور زبردستی ہر چیز پر اپنا حق جتانا بہادری کی علامت سمجھا جاتاہے۔ اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلمیات سے ناواقف وغافل ہیں۔

آئے روز طلاقوں کی بڑھتی شرح پریشان کن ہے اور اس کا محرک بھی حقوق کی پامالی اور اپنے حقوق کے حصول کی کوشش ہے۔ والدین کو اگر دیکھا جائے تو وہ بھی اپنی اولاد کی تربیت سے غٖافل ہیں۔ والدین کو اگر کوئی فکر لاحق ہے تو وہ بس اتنی کہ بچوں کا مستقبل سنور جائے، وہ دنیامیں کسی کے محتاج نہ رہیں، اچھی تعلیم حاصل کرلیں اچھی سی نوکری یا اچھا کاروبار شروع کرلیں۔

والدین کو یہ فکر نہیں کہ ہمارے بچے معاشرت کیسےسیکھیں، لوگوں سے سلوک کیسے رکھیں۔ معاشرت انتہائی اہم ہے اس وجہ سے قرآن وحدیث میں جگہ جگہ اس پر زور دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کےگھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو۔ اس طرح ایک اور آیت میں ارشاد ہے جب تمہیں کہا جائے مجالس میں کشادگی پیدا کرو، تو مجالس میں وسعت اور کشادگی پیدا کرو۔ یہ آیات دلالت کرتی ہیں کہ دوسروں کا حقوق کا خیال کتنا ضروری ہے۔ مجلس میں کشادگی اور دوسروں کے بیٹھنے کے لیے جگہ بنانا جب اتنا اہم ہے تو اندازہ کیا جاسکتاہے کہ دوسروں کے ضروری حقوق کا خیال رکھنا کتنا اہم ہوگا۔

ایک حدیث مبارکہ ہے کہ مہمان کو چاہیے میزبان کے پاس اتنا قیام کرے کہ وہ تنگ نہ ہوجائے۔ اس حدیث میں مہمان کو میزبان کا خیال رکھنے کا امر کیا گیا ہے۔ مریض کی عیادت اچھی بات ہے لیکن اسلام یہاں بھی زور دیتا ہے کہ مریض کے پاس زیادہ نہ بیٹھا جائے تاکہ وہ تنگ دل نہ ہو۔ صرف دل پر بوجھ اور تنگی کا اتنا خیال رکھا گیا ہے کہ مریض کے پاس زیدہ دیر بیٹھنے کو منع کیا گیا۔

درج بالا آیات واحادیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہیں ک جس طرح وقت پر عبادت کرنا اہم ہے، اس طرح اپنے آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھنا بھی اہم ہے۔ درس نظامی کی فقہ کی کتابوں میں عبادات کا حصہ ایک چوتھائی ہے، جبکہ معاملات تقریبا تین حصوں میں بیان کیے گئے جس سے معاشرت اور حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ ہوسکتاہے۔ اللہ تعالی ہمیں حقوق العباد کی رعایت کی توفیق عطافرمائے۔ 

پیر، 28 جون، 2021

والدین کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟ اطاعت کن باتوں میں کرنی چاہیے

 والدین کی قدر کیجئے

قدرت نے انسان کو والدین کی شکل میں وہ انمول تحفہ اور عظیم نعمت عطاکی ہے جس کا اس دنیا میں کوئی ثانی اور کوئی نعم البدل نہیں۔ دیگر رشتہ دار جتنے بھی خیر خواہ ہوجائیں والدین کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ والدین کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اگر آپ کی خیرخواہی کرتاہے تو ہوسکتا ہے اس کاکوئی مفاد وابستہ ہو۔ لیکن والدین ایسی شخصیت ہوتے ہیں جو بلاغرض وبلامطلب اپنے بچوں پر جان بھی قربان کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں اور بدلے میں کچھ بھی نہیں چاہتے۔

اسلام میں والدین کی عظمت کو بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، جگہ جگہ والدین کی خدمت اور اطاعت کی تلقین کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین کی جتنی بھی خدمت کی جائے کم ہے۔ والدین کا حق اس دنیا میں ادا ہونا ممکن نہیں۔ کم از کم اتنا تو ہوسکتا ہے کہ بچے اپنے والدین کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کریں، ان سے نرمی سے پیش آئیں، ان کی راحت کا خیال کریں۔

والدین اگر سخت بات کریں تو اس کے پیچھے اپنی بچوں کی خیرخواہی مضمر ہوتی ہے، لہذا ان کی کڑوی کسیلی باتوں کا جواب ہمیشہ نرمی سے دیں۔ وہ اگر بات کررہے ہوں تو ان کی باتوں کو کاٹنا بے ادبی ہے۔ والدین کےسامنے موبائل فون کااستعمال بھی بے تہذیبی ہے۔ وہ اگر آپ سے بات کررہے ہیں تو ان کے سامنے کال کرنا یا کال سننا بھی مناسب نہیں۔

ماں اور باپ کی عزت یکساں کرنی چاہیے لیکن چند امور ایسے ہیں جن میں والدہ کا مقام ومرتبہ باپ سے زیادہ ہوتاہے۔ ایک حدیث شریف میں ہے ایک صحابی نے دریافت کیا میرے حسن سلوک سب سے زیادہ مستحق کون ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں۔ اس صحابی نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون، فرمایا تمہارا باپ۔ اس سے معلوم ہوا خدمت میں استحقاق ماں کا زیادہ ہے کیونکہ وہ کمزور ہوتی ہے اور دیکھ بھال کی زیادہ محتاج ہوتی ہے۔

 ہاں ادب میں اور عزت واحترام میں باپ کا مقام ومرتبہ اعلی ہے کیونکہ باپ سے اس قدر انسان بے تکلف نہیں ہوتا جتنا ماں سے ہوتاہے۔ لہذا ادب کا لحاظ بھی باپ کے لیے زیادہ ہونا چاہیے۔

یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ والدین کی اطاعت صرف جائز اور نیکی کے کاموں میں ہے۔ خدانخواستہ اگر وہ گناہ کا حکم کریں، چوری یا کسی کی حق تلفی کا حکم کریں تو اس سلسلے میں ان سے معذرت کرلینی چاہیے اور ان کی بات نہیں ماننی چاہیے۔ ارشاد ہے لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔ قرآن پاک کی رو سے معلوم ہوتاہے کہ والدین اگر غیر مسلم ہوں توشرک اور کفر میں ان کی بات ہرگز نہ مانی جائے، البتہ دنیاوی معاملات میں ان سے حسن سلوک اب بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو والدین کا فرمانبردار بنائے

ہفتہ، 26 جون، 2021

نوجوان نسل کی بے راہ روی کے اسباب اور ان کا علاج

 نوجوان نسل کے براہ روی کے اسباب

کسی بھی سماج اور معاشرے میں نوجوان اہم ہوتے ہیں اور ان کو ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتاہے۔ قوم وملک کی فلاح وبہبود میں نوجوان نسل کا کردار اظہر من الشمس ہے۔ عمررسیدہ اور بچوں کی نسبت نوجوان نسل کاوجود اہمیت رکھتا ہے۔ یہی نوجوان اگر اپنا کردار نبھانے کے بجائے لایعنی کاموں میں مشغول ہوجائیں یا خواب غفلت کا شکار ہوجائیں تو قوم ترقی کے بجائے زوال پذیر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

سماج میں اصلاح اور نیکی کے بجائے برائی کی جڑیں پھیلنے لگتی ہیں بے حیائی اور فحاشی اپنا راستہ نکال لیتی ہے اور زندگی اجیرن سی ہوجاتی ہے۔ یہ باتیں کوئی تخیلاتی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں کھلی آنکھوں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مغربی ممالک کو دیکھ لیجئے، وہاں اخلاقی پستی کا اگر دور دورہ ہے تو نوجوانوں کی بدولت ہی ہے۔

شہوت پسند لوگ بجائے اس کے کہ کوئی مثبت اور تعمیری کام کریں، اسی ہوس پرستی کی تکمیل کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ دشمنان اسلام کا یہی مقصد ہے کہ نوجوان نسل تخریبی کاموں میں ملوث ہوجائے۔ آج کل جبکہ انٹرنیٹ عام ہے، تخریبی ذہن کے لوگوں کا کام اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ذہنی صلاحیتوں کو مائوف کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا جہاں علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور علم میں اضافے کا ایک بہترین سبب ہے وہاں بے راہ روی اور اباحت پسندی کو کافی حد تک پروان چڑھا رہا ہے۔

بے جا لہوولعب اور فضول خرچی کا ایک اہم سامان ہے۔ ایسے حالات میں والدین اور خود نوجوان نسل کا فرض بنتا ہے کہ وہ عقل بروئے کار لا کر خود کو سنبھالیں۔ ہر جگہ سے صدائے حق بلند ہوگی تو ہم سوشل میڈیا کے سائڈ افیکٹس کا بخوبی مقابلہ کرسکیں گے۔ انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہے لیکن اس کی حدوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ دو دھاری تلوار ہیں جن سے بیک وقت فائدہ بھی اٹھایا جاسکتاہے اور یہ غیر معمولی نقصان کا بھی باعث ہیں۔

اصلاح پسند حضرات اور دیندار رہنمائوں کا فرض ہے کہ خاموشی کے بجائے نوجوانوں کی تربیت کریں۔ زبان وبیان ہو یاقلم ہو، ہر پلیٹ فارم سے اور ہر ذریعہ سے نوجوانوں کی اصلاح ضروری ہے تاکہ وہ بے راہ روی کی دلدل سے نکل سکیں ۔

بے راہ روی کا سبب جہاں سوشل میڈیا ہے وہاں کچھ وڈیو گیمز بھی ہیں جو عریانیت کو پروان چڑھا رہے ہیں نیز ان میں غیر اسلامی شقیں بھی وافر مقدار میں ہیں جوکہ ایک مسلمان کے ایمان کے منافی ہیں۔ یہ ایک شاطرانہ چال ہے جو کہ حیرت انگیز طور پر مسلمان نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور وہ لاشعوری طور پر اس کا شکار ہورہے ہیں۔

یہ بے حسی ہے کہ اپنے سامنے اس طرح کی خرافات ہوتے ہوئے ہم سب خاموش ہوجاتے ہیں اور اپنے حصے کا فرض ادا کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد پاک ہے خیرالناس من ینفع الناس۔ بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔ اس حدیث کی رو سے ہم سب کا فرض ہے لوگوں کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں،اللہ تعالی ہماری نوجوان نسل کو خیر کے کاموں کی توفیق عطافرمائے۔ 

جمعہ، 25 جون، 2021

لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں؟ اسباب اور بچنے کا طریقہ

 لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں

خود کشی کرنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں، یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر وبیشتر ہمارے کانوں میں پڑتا رہتاہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے ہمارے عزیزوں، رشتہ داروں، اور دوستوں میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتاہے جو زندگی میں ایک دوبار خودکشی کے بارے میں ضرور سوچتا ہے۔

خوش قسمتی سے ایسی کوشش کرنے والے کبھی بچ جاتے ہیں لیکن اکثریت اس کوشش میں کامیاب ہوجاتی ہے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ ہر جان سے جانے والا اپنے پیچھے یہ سوال ذھنوں میں چھوڑ جاتاہے کہ آخر اس نے یہ انتہائی اقدام کیوں کیا۔ لواحقین توجیتے جی مرجاتے ہیں، لیکن دوسرے لوگ تبصروں اور تجزیوں میں اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہیں کہ آخر وہ کونسے اسباب تھے جن کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایک جیتا جاگتا انسان یوں نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ کیا وہ زندگی سے مایوس ہوچکا تھا؟ کیا اس کے سامنے زندہ رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں بچی تھی؟

خودکشی کرنے والے صرف غریب ونادار ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں زندگی کی تمام رعنائیاں اور آسائشیں میسر ہوتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خود کشی سے جو غریب اور ناداری کا تعلق جوڑا جاتا ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ ضروری نہیں انسان تنگدستی کے ہاتھوں یہ انتہائی اقدام اٹھائے۔ زیادہ تر قیاس آرائیاں یہی کی جاتی ہیں کہ مرنے والے کوکوئی خاص مصیبت یا پریشانی لاحق تھی، اور وہ دوسروں کو بتانا بھی نہیں چاہتا تھا لہذا اس نے پریشانی سے بچنے کے لیے یہ حل نکالا۔ حالانکہ محققین خود کشی کے اس سبب کو کلی طور پر ماننے  لیے تیار نہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ افراد ڈپریشن کا شکار ہیں، اور ڈپریشن بھی اقدام خودکسی کا ایک اہم محرک ثابت ہوا ہے۔ اس وقت دنیا میں آٹھ سے دس لاکھ افراد ہر سال خود کشی کرتے ہیں اور اکثر خودکشی سے قبل اس فیصلے سے آگاہ بھی نہیں کرتے تاکہ سدباب کی کوئی صورت نکالی جاسکے۔ منجلہ دیگر وجوہات کے کچھ سیاسی اور معاشی حالات بھی انسان کو خود کشی پر مجبور کرتے ہیں۔

خود کشی کے واقعات کی گہرائی میں جائیں تو ایک چیز واضح نظر آتی ہے کہ ہم لوگوں میں برداشت کی کمی بڑھتی جارہی ہے۔ معمولی سی رنجش ہوجائے یا اپنا مطالبہ پورا نہ ہوپائے تو ہم زندگی کے خاتمے کا سوچنے لگنے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس حوالے سے والدین اور بزرگ اپنے بچوں کی ذہن سازی کریں اور انہیں سمجھائیں کہ اس دنیا میں ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں اور نہ ہرضرورت کی پورا ہونے کی امید لگانی چاہیے۔ اسلام پر مکمل عمل پیرا ہوکر انسان نفسیاتی مسائل سے بچ سکتاہے جو انسان کو رفتہ رفتہ خودکشی کی طرف مائل کرتے ہیں۔

اسلام میں خود کشی ممنوع ہے اس کو سنگین جرم اور باعث عذاب قرار دیا گیا ہے۔ انسان اپنے جسم کا خود مالک نہیں ہے لہذا اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا بھی انسان کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ زندگی اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت ہے لہذا زندگی کے احکام میں بھی اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرنی ضروری ہے۔

جمعرات، 24 جون، 2021

تعلیم کی ضرورت واہمیت

 تعلیم کی اہمیت وضرورت
تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے جو انسان کو زندگی کی راہ متعین کرنے کا سلیقہ بتاتی ہے۔ تعلیم سے انسان کے لیے نئی راہیں روشن ہوجاتی ہیں جس سے اس کی زندگی آسان تر ہوجاتی ہے۔ علم ایک ایسی دولت ہے جس کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ بقول شخصے، مال ودولت کی حفاظت تم خود کرتے ہو لیکن علم تمہاری حفاظت خود کرتاہے۔ علم کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ غزوہ بدر کے مشرک قیدیوں کے بارے میں یہ حکم ہوا کہ غیر پڑھے لکھے اور نادار قیدیوں کو ویسے چھوڑ دیا جائے لیکن ان میں سے جو پڑھے لکھے ہیں وہ مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں تب ان کو رہائی ملے گی۔

جنوبی افریقہ میں ایک یونیورسٹی کے باہر ایک فکر انگیز جملہ لکھا تھا کہ کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم اور دور تک مارکرنے والے میزائلوں کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا نظام تعلیم خراب کردو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیمی حالت کی ابتری اور بہتری قوم کا مستقبل طے کرتی ہے۔ کسی قوم کے تباہ ہونے کے لیے اس بات کا بڑا دخل ہے کہ اس کے نوجوانوں کو امتحانات میں نقل لگانے کی اجازت دے دی جائے۔

نظام تعلیم ناکارہ ہوگا تو ایسے ڈاکٹر پیدا ہوتے رہیں گے جن کے ہاتھوں لاچار مریضوں کی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔ ناقص تعلیم کے حامل انجینئرز عمارتوں کو تباہ کرتے رہیں گے، معیشت دانوں کے ہاتھوں معیشت کا کباڑہ ہوتا رہے گا۔ غیرمعیاری مذہبی تعلیم دی جائے تو ایسے مذہبی رہنما پیدا ہوتے رہیں گے جو قوم وملت کی رہنمائی کرنے کے بجائےانہیں فرقہ پرستی کی اگے میں جھونکتے رہیں گے۔ انصاف ججوں کے ہاتھوں قتل ہوتا رہے گا۔

اوپر یونیورسٹی کا درج کردہ جملہ بڑا معنی خیز ہے، جو اپنے اندر کئی معانی پوشیدہ رکھتاہے۔ معیاری علم اہم ہے جس کی طرف حضورﷺ کے اس ارشاد میں اشارہ ملتا ہے کہ طلب العلم فریضۃ علی کلم مسلم۔ علم طلب کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انسان کے کیا فرائض وواجبات ہیں، یہ جاننے کے لیے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے فرائض کامل طور پر بجالانے کے لیے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ انسان اپنے اصل مقام کو تب تک نہیں پہچان سکتا جب  تک کہ صحیح اور مستند علم حاصل نہ کرلے۔

روز قیامت اعمال کا حساب ہوگا، اچھے اعمال کا بدلہ ثواب کی صورت میں اور گناہوں کا بدلہ سزا کی صورت ملے گا۔ اس سب کے لیے ضروری ہے کہ انسان گناہوں اور نیکیوں کی معرفت اور ان کا علم حاصل کرے۔

تعلیم دینی ہو یا دنیاوی، اس کے لیے صحیح طریقہ اور درست نیت ضروری ہے۔ دینی تعلیم کا مقصد رضائے الہی کا حصول ہونا چاہیے، جبکہ دنیاوی تعلیم کا مقصد یہ متعین کیا جاسکتا ہے کہ اس سے معاشرے اور اپنے علاقہ کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائےگا جس سے معاشرہ صحیح سمت میں اگے بڑھ سکے۔ تعلیم کا مقصد دنیا کا حصول ہرگز نہ ہونا چاہیے کیونکہ اس  سے انسان کی ہوس اور لالچ ظاہر ہوتی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اپنے علم سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچایا جائے خواہ وہ تدریس کی شکل میں ہو، یا طب کا شعبہ ہو۔

بدھ، 23 جون، 2021

اردو زبان کی اہمیت

 قومی زبان کیوں اہم ہے

کسی بھی ملک یا قوم کی دائمی بقاء اس کی قومی زبان میں مضمر ہے اور تاریخ اس کی شاہد ہے۔ تہذیبی پہچان ہو یا ثقافتی، سب قومی زبان کی مرہون منت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں صنعتی، معاشی اور وسماجی ترقی بھی قومی زبان کے پس منظر میں پروان چڑھتی ہے۔ ترقی کا دارومدار زیادہ تر اس پر ہوتاہے۔

دنیا کے جتنے ترقی یافتہ ممالک ہیں، ان کی ترقی کے پیچھے اگر دیکھا جائے تو اس کی قومی زبان کا ہاتھ نظر آئےگا۔ ہر ملک اپنی ہی زبان کو لے آگے بڑھا ہے۔ اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنا سہل ہوتاہے اور ترقی کی سیڑھیوں پر چڑھنا نسبتا آسان ہوجاتاہے۔ چین جاپان، روس اور جرمنی ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں، جنہوں نے غیروں کی زبان اپنانے کے بجائے اپنی قومی زبان کو فروغ دیا اور آج دنیا کے نقشے پر ایک مانی ہوئی تہذیبیں ہیں۔

قومی زبان ذہنی آزادی کا بھی باعث بنتی ہیں۔ دوسروں کی زبان میں آگے بڑھنے سے انسان پیچھے رہتاہے اور غیروں کی ذہنی غلامی کا اسیر بن کر رہ جاتاہے۔ قومی زبان کے ضمن میں علاقائی زبانیں بھی آجاتی ہیں جن کی اہمیت وافادیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔ زبان اللہ تعالی طرف سے ایک بیش بہا نعمت ہے جس کے ذریعہ انسان اپنا مافی الضمیر واضح کرتاہے، اور یہ سب کچھ قومی زبان کے بعد اپنی علاقائی زبانوں کی مرہون منت ہے۔

دنیا کی دیگر زبانوں کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ضرورت کے تحت انگریزی اور فارسی سیکھی جاسکتی ہیں، خصوصا جب بیرون ملک روزگار وابستہ ہو یا بیرون ملک سیٹل ہونے کی امید ہو۔ لیکن دوسری زبانیں فقط ضرورت کے تحت سیکھنی چاہییں، ان کو مقصد اول بنانا عقلمندی نہیں۔

دنیا کی دیگر قومیں جب اپنی قومی زبانوں کو رواج دے کر ترقی کرسکتی ہیں، ان کے لیے اپنی زبان ترقی میں رکاوٹ نہیں تو پاکستان میں اردو ترقی کی رکاوٹ کیوں ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔

اردو ایک خاص اہمیت کی حامل زبان ہے۔ پاکستان کو وجود دلانے کے لیے محرک اول اسلام تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ایک برزور تحریک بن گیا۔ وہیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ تحریک پاکستان کے پیچھے اردو بھی ایک عنصر کے طور پر سامنے آئی تھی۔ آج بھی انڈیا میں اردو کو امتیاز کا نشابہ بنایا جاتاہے، صرف اس وجہ سے کہ اس کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے اور یہ کہ تحریک پاکستان میں اہم کردار کی حامل تھی۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر فرمایا دیا اردو پاکستان کی سرکاری زبان ہوگی۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج ہم اردو زبان بولنے اور لکھنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ خود دار اور آزاد قومیں اپنی قومی زبان پر فخر محسوس کرتی ہیں، اپنی اقدار اور اپنی تہذیب کی جان سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔

دنیا بھر میں قومی زبان اردو بولنے کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تیزی کے ساتھ اردو ایک انٹرنیشنل زبان کا درجہ حاصل کررہی ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کی متعدد ممالک میں اردو زبان بولنے والوں کی کثرت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زبان کو اہمیت دیں اور جس قدر ممکن ہو انٹرنیٹ کی دنیا میں اس کو رواج دیں۔ بجائے رومن اردو لکھنے کے اردو رسم الخط میں لکھنے کی عادت ڈالیں۔ اردو زبان میں بلاگ اور ویب سائٹ بنائیں اور اس کو ایک اہم مقام دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ہفتہ، 19 جون، 2021

کرسٹیانو رونالڈو کی حرکت

کرسٹیانو رونالڈو کی حرکت
دنیا میں ہر کھیل کے شیدائی پائے جاتے ہیں لیکن فٹ بال کے شوقین دنیا بھر میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ کھیل ہے جس کو پسند کرنے والوں کی تعداد سب  سے زیادہ ہے۔ دنیا کی آبادی لگ بھک سات ارب ہے جس میں تقریبا تین ارب لوگ فٹ بال ہی کو پسند  کرتے ہیں۔

فٹ بال خواہ کھیلنے والوں ہوں یا دیکھنے والے، دونوں کو وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا اور وہ دنیا ومافیہا سے بے خبر اس کھیل میں مشغول رہتے ہیں۔ اس کھیل نے دنیا کو بہت بڑے نام دیے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کی عوام پر اپنا گہرے نقوش چھوڑے ہیں ان میں رونالڈو سرفہرست ہیں۔

آج کی دنیا سوشل میڈیا کے گرد گھومتی ہے جہاں لمحہ بھر میں وہ واقعات پوری دنیا میں پھیل جاتے ہیں جن کا صیغہ راز میں رہنا اور رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ لاکھ کوششوں کے باوجود ان کو پوشیدہ رکھنا اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ ان سماجی ابلاغ کے ذرائع نے ہیرو کو زیرواور زیرو کو ہیرو بنانےکی صلاحیت بھی بدرجہ اتم حاصل کرلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مشہور ہستیاں اس معاملے میں کافی حساس ہوگئی ہیں، اور وہ سوشل میڈیا کی اہمیت کو کسی صورت نظر اندازنہیں کرسکتیں۔

ایک ایسی ہی صورتحال اس وقت پیش آئی جب رونالڈو میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کررہے تھے اور مقابلے کے لیے کئی گئی تیاریوں اور اپنی ٹیم کی موجودہ صورتحال سے میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کررہے تھے، اس دوران جب ان کے سامنے کوکا کولا کی بوتل رکھی ہوئی تھی، اسے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اور سادہ پانی کی بوتل اٹھائی اور اپنی زبان میں لفظ پانی کہا۔

رونالڈو کوئی معمولی شخصیت نہیں ہیں، ان کے چاہنے والوں کے لیے ان کی ہر حرکت اور ہر فعل معنی خیز ہوتاہے جس میں ایک مثبت یا منفی سبق پوشیدہ ہوتاہے۔ اس معمولی عمل کی بدولت کوکا کولا کو ہزاروں ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شخص کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، اور نہ ہی کسی عالم دین کا فعل ہے۔ لیکن دنیا بھر جس طرح کا تاثر واقع ہوا ہے وہ خاصہ معنی خیز ہے۔

یوں تو ہم ہزارہا بار سن چکے ہیں کہ ایسے مشروبات انسانی صحت کے لیے مضر ہیں، خصوصا ہڈیوں کو ان سے ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن کون کان دھرتاہے، رونالذو کے اس فعل نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اب ہر کوئی اس پر بات کرتا نظر آتاہے۔ سب اس طرف متوجہ ہوگئے ہیں کہ واقعی یہ سافٹ ڈرنکس انسانی جسم کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ رونالذو کے اس فعل سے جہاں اس قسم کے مشروبات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے وہاں اس شخصیت کی انسانی ہمدردی والی جہت بھی نمایاں ہوئی ہے کہ وہ کیسے بنی نوع انسان کو غیر صحت مندانہ غذائوں اور مشروبات سے روک رہے ہیں۔ حتی کہ انہوں نے ایک مرتبہ تو یہ تک کہہ دیا کہ میں اپنے بیٹے پر کبھی کبھی اس لیے غصہ کرتا ہوں کہ وہ کوکا کولا اور فانٹا پیتا ہے۔

علاوہ ازیں وہ فلاحی کاموں کے لیے بھی مشہور ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور شام کے بچوں کے لیے انہوں نے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ رونالڈو کے ان افعال کی وجہ سے ان کے مخالفین بھی بڑھ گئے ہونگے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے وہ مسلمانوں کے ساتھ عافیت کا معاملہ فرمائے اور دنیا کی تمام تکالیف سے نجات عطافرمائے۔

Earn money online through your mobile