ہفتہ، 12 جون، 2021

فاسٹ فوڈ کے نقصانات اور حقائق

 فاسٹ فوڈ کے بارے میں چند حقائق
ہرانسان کی قدرتی ضرورت ایسی غذائیت ہے جو صحت بخش بھی ہو اور مضر اثرات سے پاک بھی ہو۔ فاسٹ فوڈ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ جہاں بھرپورلذت کا حصول ہے وہاں وقت کی بچت اور اس کا سہل الحصول ہونا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ لیکن اس میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بے شمار کیلوریز اور چربی کی موجودگی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

 فاسٹ فوڈز میں بہت سے کھانے شامل ہیں جن میں پیزا، سینڈوچ، چپس اور برگر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ چند مشروبات بھی ایسے ہیں جن کو فاسٹ فوڈ میں شمار کیاجاتاہے۔ فاسٹ فوڈز میں بے تحاشہ چینی کا استعمال ہوتاہے جو کہ ایک مریض کے لیے تو مضر ہے ہی، صحت کے مسائل سے محفوظ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

 ایک عام برگر میں دس گرام چینی ہوتی ہے جو کہ ذیابیطس اور دیگر امراض کے بڑھانے کے سبب ہے۔ فاسٹ فوڈ چونکہ بہت زیادہ چربی پر بھی مشتمل ہوتاہے اس لیے یہ موٹاپے کا سبب بھی بنتا ہے، کیونکہ موٹاپے کا سیدھا سادھا مطلب چربی کی زیادتی ہے۔ فاسٹ فوڈ کے عادی افراد سبزیوں اور پھلوں کو پسند نہیں کرتے، حالانکہ پھل اور سبزیاں وزن گھٹانے میں مفید ثابت ہوئی ہیں۔اس طرح فاسٹ فوڈ کو پسند کرنے والے خود بخود موٹاپے کی طرف چلے جاتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق دل کی بیماریوں میں وہی لوگ اکثر مبتلا ہوتے ہیں جو فاسٹ فوڈ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ چار ہفتوں سے زیادہ فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں امراض قلب کی شرح کافی بڑھ جاتی ہے۔ یہ چیز خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت بناتی ہے جس سے دوران خون متاثر ہوتا ہے اور اس طرح انسان دل کے امراض میں مبتلا ہوتا چلا جاتاہے۔ یہ ناقص طرز زندگی کا آئینہ دار ہے کیونکہ اس کا منشاء تن آسانی ہے۔

فاسٹ فوڈ نے خاندانی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے لوگ دوپہر اور شام کا کھانا اکٹھا کھاتے تھے اس طرح باہمی رابطہ رہتا تھا۔ اب مصروف زندگی میں ہر کوئی اپنے گھر پر فاسٹ فوڈ منگوالیتا ہے اور خاندان کے افراد سے کٹ کر رہتاہے، جو کہ ایک خوبصورت خاندانی نظام کے لیے انتہائی مضر ہے۔

فاسٹ فوڈ کی تیاری بھی کچھ قابل رشک نہیں ہے۔ ماحول اور اجزاء جو اس کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، انتہائی مضر صحت ہیں۔ ایسے کھا نے استعمال کرنے سے پیٹ کی خرابی کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھوک کی کمی بھی اس کے سبب سے پید ہوسکتی ہے۔ فاسٹ فوڈ جسم کے لیے ضروری غذائیت فراہم نہیں کرتا۔ اس کے برعکس گھر پر تیار کیا گیا کھانا صحت بخش ہوسکتا ہے اور اس میں اپنی مرضی کے غذائیت والے اجزاء بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔ لہذا اطباء تجویز کرتے ہیں کہ باہر سے فاسٹ فوڈ منگوانے کے بجائےگھویلو تیارشدہ کھانوں کو ترجیح دی جائے۔

جمعہ، 11 جون، 2021

صبح سویرے ورزش کی اہمیت اور مسلسل بیٹھنے رہنے کے نقصان

صبح سویرے ورزش کی اہمیت اور مسلسل بیٹھنے رہنے کے نقصان
ہر کوئی صحت مند رہنا چاہتا ہے اور ایسے رازوں کی تلاش میں رہتا ہے جس سے روز مرہ زندگی معمول کے مطابق رہے اور انسان بیماریوں اور عوارض سے محفوظ رہے۔ ورزش اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت ورزش کی جاسکتی ہے لیکن سب سے مفید وقت صبح سویرے کا ہی ہے جب جسم کے تمام اعضاء پرسکون ہوتے ہیں، اور چونکہ ناشتہ اور کھانا نہیں کھایا ہوتا اس لیے جسم کو ورزش کی چاہت بھی ہوتی ہے۔

صبح سویرے ورزش کرلی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دن بھر آرام سے بیٹھنا ایک اچھی بات ہے۔ کام کے دوران وقفے وقفے سے چہل قدمی بھی اہم ہے۔ اس سے بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔ ایسی خواتین جن کا کام مسلسل بیٹھنے کامتقاضی ہے، ان کو چاہیے کہ دن میں کم ازکم تین مرتبہ وقفے وقفے سے چند منٹ کی چہل قدمی کرلیا کریں۔ خصوصا وہ خواتین جن کی عمر زیادہ ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہورہی ہیں ان کے یہ طریقہ انتہائی کارگر ہے۔

 آرام طرز زندگی ہمارے معمول کا حصہ ہوچکی ہے خصوصا جبکہ ہمارے معاشرے کے زیادہ تر افراد پرائیویٹ یا سرکاری دفتروں کے روزگار سے وابستہ ہیں۔ گھر کے کم کاج بھی اکثر بیٹھ کے کیے جاتے ہیں، سفر بھی آرام دہ ہوچکا ہے، ایسے میں جسمانی حرکت بالکل ختم ہوتی جارہی ہے اور امراض بڑھتے جارہے ہیں۔

امراض قلب کے بنیادی اسباب میں سے بھی یہ بات ہے ہے زیادہ تر بیٹھے رہنے سے انسان آرام طلبی کی طرف متوجہ ہوتاہے اور آرام طلبی اور راحت رسانی دل کے امراض کو جنم لیتی ہے۔ اگرچہ صبح کی ورزش کے بعد دن بھر آرام سے رہنا مفید ہے لیکن زیادہ تر فائدہ ان لوگوں کے حق میں دیکھنے میں آتا ہے جو صبح سویرے ورزش بھی کرتے ہیں اور دن بھر وقفے وقفے سے چہل قدمی بھی کرتے ہیں۔

زیادہ دیر بیٹھنا شوگر اور ذہنی امراض کو بھی جنم لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چینی اور سگریٹ جتنا زیادہ نقصان کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ نقصان اس صورت میں برآمد ہوتاہے جب مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت اپنائی جائے۔ جگر کے امراض کا خطرہ ان لوگوں میں دس فیصد تک بڑھ جاتاہے جو سستی کا شکار ہوتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے۔ زیادہ بیٹھنے سے ٹانگوں کی پشت پر دبائو پڑتاہے جس سے مسلز کمروز ہوجاتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں گردوں کے امراض اور مسلسل بیٹھے رہنا کا بھی آپس میں گہراربط ثابت ہوا ہے۔

ذہن پر تنائو کی کیفیت مختلف عوامل کی وجہ سے ہوسکتی ہے جن میں بے روزگاری اور گھریلو مسائل شامل ہیں۔ لیکن زیادہ تر امکان یہی ہے کہ یہ عارضہ مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے ہو۔ مسلسل بیٹھنا سماجی دوری اور ہر ایک سے الگ تھلگ رہنے کا بھی اشارہ ہے جو کہ کسی طور پر مفید نہیں۔ بے خوابی اور خرابی صحت سے بچنے کا واحد اور دیرپا حل یہی ہے کہ متحرک رہا جائے اور بے وجہ سے بیٹھنے سے پرہیز کیا جائے۔

جمعرات، 10 جون، 2021

وٹس ایپ کے کچھ فوائد اور مثبت پہلو

 وٹس ایپ کے کچھ مثبت پہلو
وٹس ایپ ایک ایسی سروس ہے جو دنیا بھر میں مقبولیت کی نئی حدوں کو چھو چکی ہے۔ ہر وہ موبائل صارف جو سمارٹ فون کا مالک ہو، ضرور اپنے موبائل میں وٹس ایپ انسٹال رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں مقبول اس ایپ میں وہ فیچرز ہیں جو دوسری کسی بھی ذرائع مواصلات کی ایپس میں موجود نہیں ہیں۔ لیکن دنیا میں ہر ایجاد کے اگر فوائد ہوتے ہیں، تو لامحالہ اس کے مضرات ونقصانات بھی ہوتے ہیں۔ یہ استعمال کنندہ پر منحصر ہوتاہے کہ وہ کیسے ایک ایجاد سے فوائد حاصل کرے اور کیسے اپنا استعمال ایسا رکھے کہ نقصانات کاسامنا بالکل نہ ہو یا کم سے کم ہو۔

 وٹس ایپ بھی نقصانات وفوائد کی حامل ایپ ہے۔ اس مضمون میں ہم اس کے فوائد کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی سب سے اچھی بات مفت استعمال ہے۔ اس کو ڈاون لوڈ کرنے انسٹال کرنے کے لیے آپ کو ان ایپ پرچیز نہیں کرنی پڑتی۔ اگرچہ کچھ عرصہ پہلے یہ افواہ تھی کہ اپنی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے شاید اس کے کچھ جارجز لاگو ہوجائیں، لیکن تاحال یہ فری میں دستیاب ہے۔ خصوصا جبکہ یہ فیس بک انتظامیہ کے زیر کنٹرول اور ان کی زیر ملکیت ہے، اس بات کا امکان قوی ہوگیا ہے کہ یہ ہمیشہ مفت میں دستیاب رہے گی، کیونکہ فیس بک کے بانی کا اپنی اس مشہورزمانہ سوشل پلیٹ فارم کے بارے میں کہنا ہے یہ مفت ہے اور ہمیشہ مفت رہے گا۔

اس کے علاوہ اس کی مثبت خصوصیات میں سے برق رفتاری ہے۔ دوسرے میسیجنگ سروسز کے برعکس، اس کی پیغام رسانی انتہائی تیز ہے اور سیکنڈز کےاندر اندر آپ اپنا صوتی یا تحریری پیغام دنیا کے کسی بھی کونے میں بآسانی پہنچاسکتے ہیں۔ وائس کال کی عمدہ سروس کی بدولت ہر موبائل صارف آسانی سے بذریعہ آواز اپنے سے رابطے میں رہ سکتا ہے اور اس کے لیے اسے کوئی ادائیگی بھی نہیں کرنی پڑتی۔ سوائے انٹرنیٹ کے خرچہ کے اس کوئی زائد خرچہ نہیں ہے۔

سلائیڈ شوز، پی ڈی ایف فائلز، اور وہ ڈاکومنٹس جو سوایم بی کے لگ بھک مقدار رکھتی ہوں، آپ آسانی سے دوسرے صارف کو بھیج سکتے ہیں۔ اس طرح کی سروسز عام طور پر صارفین سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور سکرین پر اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے جس سے ایک عام آدمی زچ ہوجاتاہے۔ وٹس ایپ کی خصوصیت ہے کہ یہ آپ کے موبائل کی سکرین کو صاف رکھتی ہے اور کسی قسم کے اشتہارات شائع نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے آپ اس کا استعمال بغیر کسی پریشانی کے کرسکتے ہیں۔

پیغامات غلطی سے بھیج دیے جائیں تو وٹس ایپ آپ کو سہولت دیتی ہے کہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر آپ اس پیغام کو حذف اور ڈیلیٹ کردیں، آپ کا بھیجا ہوا پیغام دوسرے کی نظر سے اوجھل ہوجائےگا اور یوں آپ کی پرائیویسی میں کوئی خلل نہ آئے گا۔ وٹس ایپ انسٹال ہونے کے فورا بعد آپ کے موبائل میں موجود نمبرز اپ ڈیٹ ہوجاتے ہیں اور جو جو وٹس ایپ استعمال کررہے ہوتے ہیں وہ آپ کی لسٹ میں شامل ہوجاتے ہیں، پھر ان سے آپ بآسانی مفت میں رابطہ کرسکتے ہیں۔ آپ کہیں بھی ہوں، اگر موجودہ لوکیشن دوسروں سے شیئر کرنا چاہیں تو یہ بھی ممکن ہے۔ پندرہ منٹ، ایک گھنٹہ اور آٹھ گھنٹے کے لیے یہ فیچر استعمال کیا جاسکتاہے۔

بدھ، 9 جون، 2021

خیرخواہی کے فوائد اور خود غرضی کے نقصانات

ہمارا معاشرہ دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح ہے جہاں خود غرضی اور نفسا نفسی کا دور دورہ ہے۔ بجائے اس کے کہ معاشرے کے افراد ایک دوسرے سے تعاون کریں، باہم ٹانگین کھینچنے میں مصروف ہیں،ویسے تو معاشرے میں کئی برائیاں جنم لے چکی ہیں جن کے سد باب کی طرف نہ کوئی ضرورت محسوس کرتا ہے اور نہ اس کی روک تھام کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام موجود ہے۔ لیکن چند برائیاں ایسی ہیں جو ہمارے معاشرے کے وجود کو گھن کی طرح کھائے جارہی ہیں۔

مثلا ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا، دوسروں کے کاموں میں بے جا مداخلت، حسد، کسی کو نعمت مل جانے اس کے چھن جانے کی تمنا کرنا وغیرہ۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ مشکلات میں گھرے انسان کی مدد کو تو کوئی نہیں آتا، البتہ شعوری اور لاشعوری طور پر اس بے چارے انسان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا  جاتاہے۔ یہ رویہ اور طرز عمل صرف سیاست اور سماج میں نہیں ہے، بلکہ خاندانی نظام بھی اس کی شدید لپیٹ میں ہے۔

اگر گھروں میں ہونے والے جھگڑوں کو دیکھا جائے تو پس منظر میں صرف ایک ہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ اپنے حقوق کس طرح حاصل کیے جائیں۔ دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کرنا ایک المیہ ہے جو کئی ناچاقیوں کو جنم لیتا ہے۔ اس خلفشار اور بدامنی کو روکنے کے لیے معاشرہ کی تربیت ناگزیر ہے۔

لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ مفاد پرستی اور خودغرضی مسائل کا حل نہیں ہے۔ مسائل کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دوسروں سے خیر خواہی کرے اور دوسروں کے کام آئے۔ علماء معاشرے کا ایک اہم فرد ہیں جن کی رسائی عوام تک ان کی تربیت کو آسان کردیتی ہے۔ جمعہ کے خطبات اور دیگر وعظ ونصیحت کی مجالس میں اصلاح معاشرہ کا اہم کام بخوبی انجام دیا جاسکتاہے۔

دنیا میں کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے اچھے عقیدے اور نیک اعمال والے لوگ بھی جھگڑوں میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ذرا سی مزاج کے خلاف کوئی بات ہوگئی تو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ بکثرت ایسی احادیث وارد ہیں جن میں خیر خواہی اور ایک دوسرے کے کام آنے کی ترغیب آئی ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

ہمارا معاشرہ جس اخلاقی پستی کا شکار ہے اس کے لیے ہمیں بہت محنت کی ضرورت ہے۔ خیرخواہی کا جذبہ اورہمہ وقت قربانی کے لیے تیار رہنا اصلاح معاشرہ کی کنجی ہے۔ جب تک دوسروں کے حقوق کا خیال نہ رکھا جائےگا، معاشرے میں اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔ اللہ تعالی ہمارے معاشرے کو بہتری کی طرف گامزن فرمائے۔

پیر، 7 جون، 2021

اٹھنے، بیٹھنے اور سونے کے رہنما اصول

اچھی صحت کے لیے متوازن غذا کے ساتھ کئی دیگر عوامل پر کاربند ہونا بھی ضروری ہے جن میں توازن اور اعتدال کے ساتھ اٹھنا اور بیٹھنا شامل ہیں۔ صرف یہی نہیں، لیٹنے کا عمل بھی صحت پر اثر انداز ہوسکتاہے، لیٹنے میں بھی توازن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اپنے جسم کو بہتر طریقے سے حرکت میں لانے کے لیے ماہرین اٹھنے اور بیٹھنے چند بنیادی چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں۔

 روزمرہ کے معمولات میں اس بات کاخیال ضروری ہے کہ جسم کے تمام اعضاء پر دبائو اور زور اعتدال کے ساتھ ہو۔ ایسا نہ ہو بعض اعضاء سے غیر معمولی کام لیاجائے جبکہ دیگر اعضاء کو معطل چھوڑ دیا جائے۔ انسانی جسم کے تمام اعضاء یکساں اہمیت کے حامل ہیں، ان سے حد اعتدال سے کام لینا اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ ریڑھ کی ہڈی، گردن اور سر میں درد کی شکایات آج کل عام ہیں، جن کے اسباب میں ہماری بے اعتدالی کافی حد تک کارفرما ہے۔

اٹھنے بیٹھنے کے غلط طریقوں پر روک ٹوک نہ ہونے کی وجہ سے کافی مسائل کا سامنا رہتاہے۔ والدین اگر بچوں کی شروع سے تربیت نہ کریں تو یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے اور اس سے چھٹکارا ناممکن ہوجاتاہے۔ صحت مندانہ نشست وبرخواست صرف جسمانی صحت کے لیے ہی مفید نہیں بلکہ اس سے انسان کی شخصیت میں بھی نکھارآتاہے۔

جسم کی حرکات وسکنات پر کنٹرول بعد میں مشکل ہوسکتاہے اگر شروع سے اس کی مشق نہ کی جائے۔ ذراسی کوشش سے جسم کے اعضاء کو مناسب حرکت میں لانا ممکن  بنایا جاسکتاہے۔ جوڑوں میں درد اور جسم می درد کی ٹیسیں اٹھنا ایک عام سی بات ہے جو کہ ہمارے معاشرے کے افراد کو اپنی لیپٹ میں لیے ہوئے ہے، حالانکہ اگر ہم اسباب پر غور کریں تو سوائے بے احتیاطی کے کچھ معلوم نہ ہوگا۔

مسلسل بیٹھے رہنا مضر ہے۔ ماہرین طب کے مطابق آدھا گھنٹا بیٹھنے کے بعد بیس سے تیس قدم چلنا ان اثرات بد کو ختم کرسکتا ہے جو بیٹھنے کے نیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ چہل قدمی سے سارے اعضاء اپنے صحیح رخ پر آجاتے ہیں، جس سے جسمانی نظام فعال رہتاہے۔ کوئی وزنی چیز اٹھانے کے لیے کمر پر زور دینے کے بجائے گھٹنوں پر زور دینا مناسب ہے تاکہ کمر کو تکلیف نہ پہنچے۔

انسانی زندگی میں نیند اور سونا بھی اہمیت سے خالی نہیں۔ اسلام نے جہاں ہمیں زندگی گزارنے کے طورطریقے بتائے ہیں وہان نیند کے آداب کو بھی فراموش نہیں کیا۔ نیند میں انسان تقریبا اپنی تہائی زندگی گزاردیتاہے لیکن سکون اور اطمینانی کی نیند تبھی میسر آسکتی ہے جب صحیح ڈھنگ سے اور اسلامی اصولوں کے مطابق نیند پوری کی جائے۔ جلدی سونا اور بغیر ضرورت کے جاگنے سے پرہیز کرنا ایسی صفت ہے جس کی احادیث نبویہ میں تاکید ملتی ہے۔ حضورﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد فضول کی باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے

ہفتہ، 5 جون، 2021

اپنے آپ کو کس طرح فٹ رکھیں


انسانی زندگی مصروف ہوتی جارہی ہے، اتنا وقت نہیں مل پاتا کہ باقاعدہ جم جاکر ورزش کی جائے اور اپنے اعضاء کو متناسب رکھنی کی فکر کی جائے۔ ضرورت ہے کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ انسان کی معاشی حالت بھی خراب نہ ہو اور اپنی جسمانی صحت کو باقی رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کا بھی ناغہ نہ ہو۔ غیر متوازن زندگی کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہے، متوازن زندگی اختیار کرنا آسان ہے۔

انسان کی زندگی میں عمر کے مختلف دور آتے ہیں۔ عمر کا ہرمرحلہ پہلے مرحلے سے مختلف ہوتاہے۔ ساری عمر اپنے آپ کو فٹ رکھنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے، اس  کی وجہ یہ ہے کہ اچھی صحت کے اصولوں پر پابندی کرنا دشوار ہے۔ پہلے تو بچپن کا مرحلہ ہوتاہے جس پر بقیہ عمرکا دارومدار ہوتاہے۔ شروع سے اچھی خوراک بقیہ عمر کے مراحل طے کرتی ہے۔ بچے کی خوراک میں اہم ترین غذا ماں کا دودھ ہے، اس سے نہ صرف صحت کی بقاء ہے بلکہ ہڈیوں اور جسمانی اعضاء کو توانائی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ میسر نہ ہو تو اس کے متبادل موجود ہیں۔ اچھا اور صحت بخش دودھ فراہم کیا جاسکتا ہے جس سے جسمانی ساخت اور نشونما میں بڑھوتری آئے کیونکہ اس زمانے کی صحت جوانی میں بھی کام آتی ہے۔

بچے کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی خارجی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس کی نگرانی ضروری ہے لیکن ہر وقت اسے گھر میں قید رکھنا اور جسمانی کھیلوں کی اجازت نہ دینا بھی نقصان دہ ہے۔ مختلف کھیل سکھائے جاسکتے ہیں جن میں کرکٹ اور فٹ بال قابل ذکر ہیں۔ آوٹ ڈور گیمز سے بچہ نہ صرف صحت مند رہتاہے بلکہ ضرورت سے زیادہ وزن پر بھی کنٹرول حاصل ہوتاہے۔ بجائے اس کے کہ جوانی کے دنوں میں وہ اپنا وزن کم کرنے کا سوچے، شروع ہی سے کھیلوں میں اس کی دلچسپی بڑھائی جائے تاکہ بڑھے پیٹ اور ضرورت سے زیادہ وزن کی مشقت اٹھانے کی نوبت نہ نہ آئے۔ فیملی کو چاہیے کہ بچے کے ساتھ کھیلوں میں شریک رہٰیں، اپنی فیملی کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں میں مشغول رہنا خارجی سرگرمیوں سے بدرجہا بہتر ہے۔

اٹھارہ سے پینتیس سال کی عمر وہ ہوتی ہے جس میں انسان عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے۔ روزگار اور فکر معاش سے وابستہ ہوجاتاہے۔ اس عمر میں رہن سہن بدل جاتاہے بچپن میں گزری تن آسانی کی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور ذمہ داریوں کا بوجھ یکدم کندھے پر آجاتاہے۔ اس دوران اس کی زندگی مصروف ہوجاتی ہے اور زیادہ کھیل کود کی توجہ ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ بچپین میں ایسی سرگرمیاں ہونی چاہیں کہ نوجوانی کے دنوں میں انسان کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔

کھانا کھانے کے دوران ضروری ہے کہ توجہ پوری طرح کھانے کی طرف ہو، دوسری سرگرمیاں مثلا کمپیوٹر یا موبائل کا استعمال مضر ہے۔ یہ نہ صرف نظام ہضم کو متاثر کرتاہے بلکہ غذا کے جزو بدن بننےسےبھی رکاوٹ کا باعث ہے۔ غذا سے مکمل مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کھانے کے دوران دیگر غیر متعلقہ سرگرمیوں سے اجتناب کیا جائے۔

جمعہ، 4 جون، 2021

شوگر سے کیسے بچیں؟

دنیا صحت کے مسائل سے دوچارہے، جن میں سرفہرست ذیابیطس ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ہرگزرتا دن اس کے مریضوں میں اضافہ  لاتاہے۔ یہ مرض بے شمار جسمانی مشکلات ساتھ لے کر آتا ہے جن میں نظر کی کمزوری، اعصابی اضمحلال، گردوں کے پیچیدہ مسائل، فالج اور دماغی امراض شامل ہیں۔ یہ مرض ابتدائی مراحل میں جان لیوا نہیں ہوتا لیکن جان جوکھوں میں ضرور ڈال دیتاہے۔ علامات ظاہر ہونےسے پہلے اگر ذرا توجہ کی جائے اور احتیاط کو بروئے کار لایا جائے تو اس مرض سے بچا جاسکتاہے یا کم ازکم اسے موخر تو ضرور کیا جاسکتا ہے اور انسان اپنی جوانی کے قیمتی سال خوشگوار گزار سکتاہے۔

ابتدائی مراحل میں خون میں شوگر کی مقدار نارمل سے کچھ زائد ہوتی ہے، اسے شوگر کا نام تو نہیں دیا جاسکتا ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ اسے پری  شوگر یا پری ذیابیطس کہا جاسکتاہے۔ اس حالت کے کئی اسباب ہیں جن میں سرفہرست ورزش کا فقدان، سستی اور کاہلی کا ہونا، چربی کی زیادتی، خوراک میں بے اعتدالی قابل ذکر ہیں۔ قریبا پانچ سال تک انسان کو اس مرض میں مبتلا ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اور جب یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے تو اس کو کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہوجاتاہے۔ انسان دوائوں کا اسیر ہوجاتاہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کے اخراجات اور دوائوں میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔

اچھی بات یہ ہے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس کی شدت مین کمی لائی جاسکتی ہے۔ انسانی جسم میں ضروری انسولین کا ہونا نہایت اہم ہے۔ بدن میں کافی انسولین نہ ہو تو انسان اس مرض میں مبتلا ہوجاتاہے۔ خون میں انسولین کےپیداہونے کا ذریعہ لبلبہ ہے جو انسولین خارج کرتا رہتا ہے اور جسم کو مناسب مقدار میں یہ چیز مہیا ہوتی رہتی ہے۔ اگر لبلبہ کمزرہوجائے اور خون میں مناسب انسولین مہیا نہ کرے تو ایسی حالت کو ذیابیطس کہتے ہیں۔

لبلبہ انسولین پیداکرنا کب چھوڑتا ہے؟ ریسرچ سے معلوم ہوتاہے کہ اس کے اسباب میں سے جہاں خوراک کے بے اعتدالی اور موروثیت کارفرما ہیں، نیند کی کمی کو اس چیز میں بڑا دخل ہے۔ بروقت نیند لینا اور نیند پوری کرکے بستر سے اٹھنا نہایت اہم ہے۔ روزانہ رات کو سونے کے لیے چھ گھنٹے سے کم دورانیہ اس مرض کے خطرہ کو بڑھا سکتاہے۔ علاوہ ازیں چکنائی کا استعمال بھی اس سلسلے میں مضر ثابت ہوا ہے۔

شوگر کی علامات ظاہر نہ ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ اس مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ٹل گیا ہے۔ اس کی علامات جلدی ظاہر نہیں ہوتیں، سالہا سال تک انسان نارمل زندگی گزارتا ہے اس کے بعد یہ مرض اپنا اثر دکھانا شروع کردیتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شروع ہی سے احتیاط پر عمل کیا جائے، متوازن خوراک پر توجہ دی جائے، مناسب ورزش کو اپنا معمول بنایا جائے اور ذہنی تنائو اور اعصابی کمزوری والی تمام چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔ کولڈ ڈرنکس اور سفید چاول سے مکمل پرہیز کیاجائے، اور گندم کی روٹی ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کی جائے۔ بھوک مٹانے کے لیے سلاد اور کم کیلوریز والےپھل استعمال کرنا مفید ہے۔


Earn money online through your mobile