فاسٹ فوڈ کے بارے میں چند حقائق
ہرانسان کی قدرتی ضرورت ایسی غذائیت ہے جو صحت بخش بھی ہو اور مضر اثرات سے پاک بھی ہو۔ فاسٹ فوڈ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ جہاں بھرپورلذت کا حصول ہے وہاں وقت کی بچت اور اس کا سہل الحصول ہونا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ لیکن اس میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بے شمار کیلوریز اور چربی کی موجودگی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
فاسٹ فوڈز میں بہت سے کھانے شامل ہیں جن میں پیزا، سینڈوچ، چپس اور برگر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ چند مشروبات بھی ایسے ہیں جن کو فاسٹ فوڈ میں شمار کیاجاتاہے۔ فاسٹ فوڈز میں بے تحاشہ چینی کا استعمال ہوتاہے جو کہ ایک مریض کے لیے تو مضر ہے ہی، صحت کے مسائل سے محفوظ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ایک عام برگر میں دس گرام چینی ہوتی ہے جو کہ ذیابیطس اور دیگر امراض کے بڑھانے کے سبب ہے۔ فاسٹ فوڈ چونکہ بہت زیادہ چربی پر بھی مشتمل ہوتاہے اس لیے یہ موٹاپے کا سبب بھی بنتا ہے، کیونکہ موٹاپے کا سیدھا سادھا مطلب چربی کی زیادتی ہے۔ فاسٹ فوڈ کے عادی افراد سبزیوں اور پھلوں کو پسند نہیں کرتے، حالانکہ پھل اور سبزیاں وزن گھٹانے میں مفید ثابت ہوئی ہیں۔اس طرح فاسٹ فوڈ کو پسند کرنے والے خود بخود موٹاپے کی طرف چلے جاتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق دل کی بیماریوں میں وہی لوگ اکثر مبتلا ہوتے ہیں جو فاسٹ فوڈ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ چار ہفتوں سے زیادہ فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں امراض قلب کی شرح کافی بڑھ جاتی ہے۔ یہ چیز خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت بناتی ہے جس سے دوران خون متاثر ہوتا ہے اور اس طرح انسان دل کے امراض میں مبتلا ہوتا چلا جاتاہے۔ یہ ناقص طرز زندگی کا آئینہ دار ہے کیونکہ اس کا منشاء تن آسانی ہے۔
فاسٹ فوڈ نے خاندانی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے لوگ دوپہر اور شام کا کھانا اکٹھا کھاتے تھے اس طرح باہمی رابطہ رہتا تھا۔ اب مصروف زندگی میں ہر کوئی اپنے گھر پر فاسٹ فوڈ منگوالیتا ہے اور خاندان کے افراد سے کٹ کر رہتاہے، جو کہ ایک خوبصورت خاندانی نظام کے لیے انتہائی مضر ہے۔
فاسٹ فوڈ کی تیاری بھی کچھ قابل رشک نہیں ہے۔ ماحول اور اجزاء جو اس کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، انتہائی مضر صحت ہیں۔ ایسے کھا نے استعمال کرنے سے پیٹ کی خرابی کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھوک کی کمی بھی اس کے سبب سے پید ہوسکتی ہے۔ فاسٹ فوڈ جسم کے لیے ضروری غذائیت فراہم نہیں کرتا۔ اس کے برعکس گھر پر تیار کیا گیا کھانا صحت بخش ہوسکتا ہے اور اس میں اپنی مرضی کے غذائیت والے اجزاء بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔ لہذا اطباء تجویز کرتے ہیں کہ باہر سے فاسٹ فوڈ منگوانے کے بجائےگھویلو تیارشدہ کھانوں کو ترجیح دی جائے۔
ہفتہ، 12 جون، 2021
فاسٹ فوڈ کے نقصانات اور حقائق
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
-
قومی زبان کیوں اہم ہے کسی بھی ملک یا قوم کی دائمی بقاء اس کی قومی زبان میں مضمر ہے اور تاریخ اس کی شاہد ہے۔ تہذیبی پہچان ہو یا ثقافتی، سب ق...
-
وٹس ایپ کے کچھ مثبت پہلو وٹس ایپ ایک ایسی سروس ہے جو دنیا بھر میں مقبولیت کی نئی حدوں کو چھو چکی ہے۔ ہر وہ موبائل صارف جو سمارٹ فون کا مالک...
-
اچھی صحت کے لیے متوازن غذا کے ساتھ کئی دیگر عوامل پر کاربند ہونا بھی ضروری ہے جن میں توازن اور اعتدال کے ساتھ اٹھنا اور بیٹھنا شامل ہیں۔ صرف...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں